🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الإِفْطَارُ بِالتَّمْرِ وَإِلَّا بِالْمَاءِ سُنَّةٌ)
کھجور، ورنہ پانی سے افطاری مسنون ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1990
[ ص: 1385 ] 1990 - وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ  فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى.
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث برکت ہے، اگر وہ نہ پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ وہ باعث طہارت ہے۔ احمد، ترمذی، ابوداؤد، دارمی، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا: کیونکہ وہ باعث برکت ہے۔ صرف امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ ایک دوسری روایت سے نقل کیے ہیں۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (17/4. 18 ح 16326، 16328، 16332) والترمذي (658 وقال: حسن .) و أبو داود (2355) و ابن ماجه (1699) والدارمي (7/2 ح 1708)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 1990 in Urdu