مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لا بأس ببلع اللعاب بعد الكلى)
کُلّی کرنے کے بعد تھوک نگلنے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 2018
2018 - وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يَضِيرُ أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ، وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ، وَلَا يَمْضُغُ الْعِلْكَ فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكَ لَا أَقُولُ إِنَّهُ يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.
عطا ؒ بیان کرتے ہیں، اگر کلی کرے، پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں، البتہ وہ گوند نہ چبائے، اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا، لیکن اسے اس سے روکا جائے گا۔ امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (الصوم باب: 28 بعد ح 1934)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2018 in Urdu