مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ عَشْرِ حَسَنَاتٍ عِنْدَ كُلِّ حَرْفٍ)
ایک حرف کے بدلے دس نیکیوں کا بیان
حدیث نمبر: 2137
2137 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کریم کا ایک حرف پڑھتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے، اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے، میں نہیں کہتا کہ «الٓمّٓ» ایک حرف ہے، بلکہ «أَلِفٌ» ایک حرف ہے، «لَامٌ» ایک حرف ہے، «مِيمٌ» ایک حرف ہے۔“ ترمذی، دارمی اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سند کے لحاظ سے غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2910) و الدارمي (429/2 ح 3311 موقوف علي ابن مسعود رضي الله عنه)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 2137 in Urdu