🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضِيلَةُ الْم: تَنزِيلُ الْكِتَابِ [سُورَةُ السَّجْدَةِ])
الم ‎، تَنزِیلُ الْکِتَابِ (سورۃ السجدۃ) کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2176
2176 - وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: اقْرَءُوا الْمُنْجِيَةَ وَهِيَ الم تَنْزِيلُ  ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي، فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ - تَعَالَى - فِيهِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً، وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ، وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَقَالَ فِي تَبَارَكَ مِثْلَهَا، وَكَانَ خَالُهُ لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَهُمَا، وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَى كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
خالد بن معدان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، «الْمُنْجِيَةُ» (عذاب قبر و حشر سے بچانے والی سورت) جو کہ سورہ السجدہ ہے، پڑھا کرو، کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک آدمی صرف اسے ہی پڑھا کرتا تھا جبکہ وہ بہت گناہ گار تھا، پس اس (سورت) نے اس پر اپنے پَر بچھا دیے اور عرض کیا: اے میرے رب! اسے بخش دے، کیونکہ وہ مجھے کثرت سے پڑھا کرتا تھا، پس رب تعالیٰ نے اس کے متعلق اس کی سفارش قبول فرما لی، اور فرمایا: ”اس کی ہر غلطی کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ بلند کر دو۔“ اس کی سند ضعیف ہے۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا: ”وہ اپنے پڑھنے والے کے متعلق قبر میں جھگڑا کرے گی اور کہے گی: اے اللہ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو پھر اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما، اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو پھر مجھے اس سے ختم فرما دے، اور وہ پرندے کی طرح ہو گی اور اس پر اپنے پر پھیلا دے گی، وہ اس کی سفارش کرے گی اور اسے عذاب قبر سے بچا لے گی۔“ اور انہوں نے سورہ الملک کے متعلق بھی اسی طرح بیان کیا ہے، اور وہ ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سویا کرتے تھے، اور طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں سے فضیلت دی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (454/2. 455 ح 3411، نسخة محققة: 3451)
٭ أم عبد الله عبدة بنت خالد بن معدان لم أجد من و ثقھا .
حديث: إنھا تجادل عن صاحبھا في القبر، رواه الدارمي (455/2 ح 3413 وسنده حسن) و حديث: قال طاووس فضلنا علي کل سورة ... رواه الدارمي (455/2 ح 3425 وسنده ضعيف) فيه ليث بن أبي سليم: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف


Mishkat al-Masabih Hadith 2176 in Urdu