مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُ حَضْرَةَ أَبِي بَنْ كَعْبٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو قرآن سنانا
حدیث نمبر: 2196
2196 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ:"إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ"قَالَ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ:"نَعَمْ"قَالَ: وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ:"نَعَمْ"فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، وَفِي رِوَايَةٍ:"إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ"لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا""قَالَ: وَسَمَّانِي؟ قَالَ:"نَعَمْ"فَبَكَى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: میرا رب العالمین کے ہاں ذکر کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ (یہ سن کر) ان کی آنکھوں میں (خوشی کے) آنسو بہنے لگے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ البینہ سناؤں۔“ انہوں نے عرض کیا: میرا نام لے کر (آپ کو بتایا ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پس وہ رونے لگے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4960. 4961) و مسلم (799/245)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2196 in Urdu