🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ جَمْعِ الْقُرْآنِ)
قرآن کو جمع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220
2220 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنِ اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ  ، قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ يَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ، وَاللِّخَافِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ سُورَةَ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ، (لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ) حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ، فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ فِي حَيَاتِهِ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معرکہ یمامہ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس موجود تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: معرکہ یمامہ میں بہت سے قاری شہید ہو گئے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر کسی اور معرکہ میں قاری شہید ہو گئے تو اس طرح قرآن کا بہت سا حصہ جاتا رہے گا، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ جمعِ قرآن کا حکم فرمائیں، لیکن میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ وہ کام کیسے کریں گے جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ (جمعِ قرآن) بہتر ہے، عمر رضی اللہ عنہ مسلسل مجھے کہتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور اب اس میں میرا وہی موقف ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کا ہے، زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ عقل مند نوجوان ہیں اور آپ پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں، اور آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وحی لکھا کرتے تھے، آپ قرآن تلاش کریں اور اسے ایک جگہ جمع کریں، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے پر مامور فرماتے تو وہ مجھ پر اس جمعِ قرآن کے حکم سے زیادہ آسان تھا، وہ (زید رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: تم وہ کام کیسے کرتے ہو جسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا؟ تو انہوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ بہتر ہے، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل مجھے کہتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا جس کے لیے اس نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھول دیا تھا، میں نے قرآن تلاش کرنا شروع کیا اور میں نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں اور لوگوں کے سینوں (حافظوں) سے قرآن اکٹھا کیا حتیٰ کہ میں نے سورۃ التوبہ کا آخری حصہ ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْكُم بِالْمُؤْمِنِینَ رَءُوفٌ رَّحِیمٌ﴾ [سورة التوبة: 128] آخر تک صرف ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پایا، وہ صحیفہ (قرآن کریم کا نسخہ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہا، اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4986)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 2220 in Urdu