مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ قَاطِعِ الرَّحِمِ غَيْرُ مَقْبُولٍ)
قطع تعلقی کرنے والے کی دعا قبول نہیں
حدیث نمبر: 2227
2227 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ أَرَ يُسْتَجَابُ لِي، فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعَاءَ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب تک کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ کرے اس کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کہتا ہے: میں تو بہت دعائیں کر چکا لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی، اس صورت حال میں وہ مایوس ہو جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔“ (رواہ مسلم والبخاری: 6340) [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2735/92) [وانظر صحيح البخاري (6340) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2227 in Urdu