مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بيان بعض أفضل الكلمات وفضائلها)
چند بہترین کلمے اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2301
2301 - وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ النَّبِيَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ، قَالَ: مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟"قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ" (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) .
جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر پڑھنے کے لیے صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنی جائے نماز پر تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ اسی حالت میں رہیں جس پر میں نے آپ کو چھوڑا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آپ کے (پاس سے جانے کے) بعد چار کلمات تین مرتبہ پڑھے ہیں، اگر ان کا آپ کے دن بھر کے کہے ہوئے کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، اپنی مخلوق کی تعداد، اپنے نفس کی رضا، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر۔““ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2726/79)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2301 in Urdu