مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.25. (فَضِيلَةُ العُلَمَاءِ)
علماء کی فضیلت
حدیث نمبر: 250
250 - وَعَنْهُ مُرْسَلًا، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِمًا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْآخِرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ; أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الَّذِي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ عَلَى الْعَابِدِ الَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کا تذکرہ کیا گیا، ان میں سے ایک عالم تھا، وہ فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا اور لوگوں کو خیر (علم) کی تعلیم دیتا، جبکہ دوسرا شخص دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان دونوں میں کون افضل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس عالم کی، جو فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا ہے، اس پر عابد، جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس طرح فضیلت ہے، جس طرح میری تمہارے ادنیٰ پر فضیلت ہے۔“ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 98 ح 347)
٭ السند مرسل .»
٭ السند مرسل .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 250 in Urdu