مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ التَّوَقُّفِ فِي مَيْدَانِ عَرَفَاتٍ)
میدان عرفات میں ٹھہر نے کا بیان
حدیث نمبر: 2592
[ ص: 1799 ] [ 4 ] بَابُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 2592 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
محمد بن ابوبکر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، جبکہ وہ دونوں منیٰ سے عرفات جا رہے تھے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس روز کیسے (تکبیر و تہلیل) کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1659) و مسلم (274/ 1285)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2592 in Urdu