🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1.31. (العُلَمَاءُ الصَّالِحُونَ وَالطَّالِحُونَ)
اچھے اور برے علماء
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 267
267 - وَعَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشَّرِّ. فَقَالَ:"لَا تَسْأَلُونِي عَنِ الشَّرِّ، وَسَلُونِي عَنِ الْخَيْرِ"يَقُولُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:"أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: کسی آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو، مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ ایسے فرمایا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں۔“ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (104/1 ح 376)
٭ بقية مدلس و عنعن والأحوص بن حکيم: ضعيف الحفظ و کان عابدًا، والسند مرسل .»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف


Mishkat al-Masabih Hadith 267 in Urdu