مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فضيلة وأهمية موضع وج)
مقام وج کی فضیلت و اہمیت
حدیث نمبر: 2749
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِف وَقَالَ الْخطابِيّ: «إِنَّه» بدل «إِنَّهَا»
زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وج (طائف طائف کا کچھ علاقہ) کا شکار کرنا اور اس کے خاردار درختوں کا کاٹنا حرام ہے، اللہ کے لیے حرام کیا گیا ہے۔ “ ابوداؤد۔ اور امام محی السنہ نے بیان کیا: ”وج“ کے بارے میں علما نے فرمایا ہے کہ وہ طائف کا ایک علاقہ ہے، اور خطابی ؒ نے: اَنَّھَا کی جگہ اَنَّہ کہا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2032)
٭ عبد الله بن إنسان: لين الحديث .»
٭ عبد الله بن إنسان: لين الحديث .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 2749 in Urdu