مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عَدَمُ تَرْكِ مَصْدَرِ الرِّزْقِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ ضَرَرٌ)
رزق کا ذریعہ نہ چھوڑا جائے اگر کوئی نقصان نہیں
حدیث نمبر: 2785
2785 - وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ، وَإِلَى مِصْرَ. فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ! مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
نافع بیان کرتے ہیں، میں شام اور مصر کی طرف سامانِ تجارت بھیجا کرتا تھا، چنانچہ اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجنے کی تیاری کی تو میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا، ام المؤمنین! میں شام کی طرف سامانِ تجارت بھیجا کرتا تھا، لیکن اب میں نے عراق کے لیے تیاری کی ہے، انہوں نے فرمایا: ایسے نہ کرو، تمہارے تجارتی مرکز کو کیا ہوا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کی روزی کا کوئی سبب بنائے تو وہ اسے نہ چھوڑے جب تک کہ (عدم منافع کی وجہ سے) اس میں تبدیلی رونما نہ ہو یا اسے اس میں نقصان ہونے لگے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (246/6 ح 26620)
٭ فيه الزبير بن عبيد: مجھول و نافع مجھول الحال و ھو غير مولي ابن عمر و مخلد بن الضحاک و ثقه ابن حبان وحده .»
٭ فيه الزبير بن عبيد: مجھول و نافع مجھول الحال و ھو غير مولي ابن عمر و مخلد بن الضحاک و ثقه ابن حبان وحده .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 2785 in Urdu