مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ البَيْعِ عَلَى البَيْعِ)
بیع پہ بیع کا بیان
حدیث نمبر: 2847
2847 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمِنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کے لیے تجارتی قافلے کو (شہر سے باہر جا کر) نہ ملو، کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے، بلا ارادہ خرید، محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ دو، کوئی شہری، دیہاتی کے لیے کوئی مال فروخت نہ کرے، اونٹنی اور بکری کا دودھ نہ روکو، اگر کوئی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو دودھ دھونے کے بعد اسے دونوں اختیار حاصل ہیں: اگر وہ اس پر راضی ہو تو اسے رکھ لے اور اگر راضی نہ ہو تو اسے واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے۔“ بخاری، مسلم۔ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جو شخص ایسی بکری خریدے جس کا دودھ روکا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھانے کا بھی واپس کرے لیکن وہ گندم نہ ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2150) و مسلم (1412/11) [و الرواية الثانية (1524/25) و ذکرها البغوي في مصابيح السنة (2080) ] »
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2847 in Urdu