🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيْعُ وَشِرَاءُ الشَّيْءِ غَيْرِ المَوْجُودِ)
غیر موجود چیز کی خرید و فروخت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2867
2867 - وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي فَأَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ. قَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ  .
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی چیز بیچنے سے مجھے منع فرمایا جو میرے پاس موجود نہ ہو۔ ترمذی۔ ترمذی کی ایک دوسری روایت اور ابو داود اور نسائی کی ایک روایت میں ہے، وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کوئی آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے، لیکن وہ میرے پاس نہیں ہوتی تو میں اسے بازار سے خرید دیتا ہوں، (تو کیا یہ جائز ہے؟) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو چیز تیرے پاس نہ ہو اسے نہ بیچ۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابو داود و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1232. 1233 وقال: حسن) و أبو داود (3503) والنسائي (289/7 ح4717) والرواية الثانية في مصابيح السنة (2101)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


Mishkat al-Masabih Hadith 2867 in Urdu