مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَسْأَلَةُ بَيْعِ شَجَرَةٍ مُثْمِرَةٍ)
پھلدار درخت بیچنے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 2875
(الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 2875 - (بَابٌ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَى الْبُخَارِيُّ الْمَعْنَى الْأَوَّلَ وَحْدَهُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «التَّأْبِيْرِ» (پیوند) کے بعد کھجور کا درخت خریدے تو اگر خریدار شرط قائم نہ کرے تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس کا کچھ مال ہو تو وہ مال بیچنے والے کا ہے، اِلاّ یہ کہ خریدار اس کی شرط قائم کر لے۔“ مسلم، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے صرف پہلا حصہ ہی بیان کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1543/80) و البخاري (2379)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2875 in Urdu