مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَسْأَلَةُ الزَّوَاجِ بِلَا مَهْرٍ وَلَا جِمَاعٍ)
بغیر مہر اور جماع کے نکاح کا معاملہ
حدیث نمبر: 3207
3207 - وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشَقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس نے اس کا حق مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس سے جماع کیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس عورت کو اس کے خاندان کی عورتوں کی مثل حق مہر ملے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی، وہ عدت گزارے گی اور میراث حاصل کرے گی۔“ (یہ سن کر) معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے خاندان کی بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے متعلق ”اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا جیسے آپ نے فیصلہ فرمایا“، تو اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔ صحیح، رواہ الترمذی و ابو داود و النسائی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1145 و قال: حسن صحيح) و أبو داود (2114. 2115) و النسائي (122/6 ح3358) والدارمي (155/2 ح 2252)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3207 in Urdu