مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (احْتِرَامُ جِنَازَةِ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا)
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے جنازے کا احترام
حدیث نمبر: 3237
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3237 - عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ . قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أَصَحُّ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي، قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ لَعَلِّي أَنْ أَكُونَ مِنْ نِسَائِكَ فِي الْجَنَّةِ.
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم مقام سرف پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، تو انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، انہیں جھٹکے سے نہیں اٹھانا اور نہ چلتے وقت جھٹکے دینا، بلکہ انہیں آرام سے لے کر چلنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہیں فرماتے تھے، عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس زوجہ محترمہ کے لیے باری مقرر نہیں فرمایا کرتے تھے وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، اور انہوں نے ان میں سے سب سے آخر میں مدینہ میں وفات پائی۔ متفق علیہ۔ رزین رحمہ اللہ نے فرمایا: عطاء کے علاوہ دیگر محدثین نے فرمایا: وہ (جن کی باری مقرر نہیں تھی) سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، اور یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی، تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہوں۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5067) و مسلم (1465/51) و رزين (لم أجده)
٭ لقوله سودة: انظر صحيح مسلم (47. 48 / 1463) وغيره .»
٭ لقوله سودة: انظر صحيح مسلم (47. 48 / 1463) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 3237 in Urdu