مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِصْلَاحُ الزَّوْجَاتِ)
بیویوں کی اصلاح
حدیث نمبر: 3260
3260 - وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: طَلِّقْهَا، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ، قَالَ: فَمُرْهَا، يَقُولُ: عِظْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، اس کی زبان میں کچھ (نقص) ہے یعنی وہ فحش گو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے عرض کیا: میری اس سے اولاد ہے اور اس کے ساتھ ایک تعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وعظ و نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ نصیحت قبول کر لے گی، اور اپنی اہلیہ کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (142. 143)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3260 in Urdu