مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَيْسَ مَا يُرَى بِالضَّرُورَةِ حَقِيقَةً)
جو نظر آئے ضروری نہیں وہ حقیقت بھی ہو
حدیث نمبر: 3311
3311 - وَعَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:"فَمَا أَلْوَانُهَا؟": قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟"قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ:"فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا؟": قَالَ: عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ:"فَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ": وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے، میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے عرض کیا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خیال میں یہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے عرض کیا: (پرانی) رگ اسے لے آئی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ممکن ہے یہ بھی رگ ہو جو اسے لے آئی ہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس بچے سے انکار کی اجازت نہیں دی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7314) و مسلم (1500)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 3311 in Urdu