مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا مُعَامَلَةَ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الإِسْلَامِ)
اسلام میں جاہلیت والا معاملہ نہیں
حدیث نمبر: 3320
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3320 - عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فَلَانًا ابْنِي؟ عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا دِعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے، میں نے دورِ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں (بچے کا) دعویٰ نہیں، جاہلیت کا معاملہ ختم ہو گیا، بچہ صاحبِ بستر کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر (رجم یا محرومی) ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2274)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 3320 in Urdu