مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَسْأَلَةُ نَذْرِ التَّضْحِيَةِ بِالنَّفْسِ)
جان قربان کرنے کی نذر کا مسئلہ
حدیث نمبر: 3445
3445 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ إِنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْ عَدُوِّهِ. فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ: سَلْ مَسْرُوقًا، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَنْحَرْ نَفْسَكَ ; فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا قَتَلْتَ نَفْسًا مُؤْمِنَةً، وَإِنْ كُنْتَ كَافِرًا تَعَجَّلْتَ إِلَى النَّارِ، وَاشْتَرِ كَبْشًا فَاذْبَحْهُ لِلْمَسَاكِينِ ; فَإِنَّ إِسْحَاقَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَفُدِيَ بِكَبْشٍ. فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ هَكَذَا كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أُفْتِيَكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
محمد بن منتشر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے دشمن سے نجات دی تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرے گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسے فرمایا: مسروق رحمہ اللہ سے پوچھو، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اپنے آپ کو ذبح نہ کرو، کیونکہ اگر تم مومن ہو تو تم نے ایک مومن کی جان کو قتل کیا، اور اگر تم کافر ہو تو تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی، ایک مینڈھا خریدو اور اسے مساکین کے لیے ذبح کرو، کیونکہ اسحاق علیہ السلام تم سے بہتر تھے اور ان کے فدیہ میں ایک مینڈھا دیا گیا، جب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں بھی تمہیں اسی طرح کا فتویٰ دینے کا ارادہ رکھتا تھا، «لَمْ أَجِدْهُ» ”میں نے اسے نہیں پایا“، «رَوَاهُ رَزِيْنٌ» ”اسے رزین نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان والنذور/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)
٭ و لأصل الحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني في الکبير (354/11 ح 11995) و عبد الرزاق (186/11 ح 11443، 15905) وغيرهما عن ابن عباس بغير ھذا اللفظ مختصرًا .»
٭ و لأصل الحديث شواھد ضعيفة عند الطبراني في الکبير (354/11 ح 11995) و عبد الرزاق (186/11 ح 11443، 15905) وغيرهما عن ابن عباس بغير ھذا اللفظ مختصرًا .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده
Mishkat al-Masabih Hadith 3445 in Urdu