🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بِسْمِ اللَّهِ حِجَابٌ بَيْنَ عَيْنِ الشَّيْطَانِ وَعَوْرَةِ الإِنْسَانِ)
بسم اللہ، شیطان کی آنکھ اور انسان کی شرمگاہ کے درمیان پردہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 358
358 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب ان میں سے کوئی بیت الخلا میں جائے تو وہ «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ کہے۔ یہ جنوں کی آنکھوں اور اولادِ آدم کی پردہ کی چیزوں (شرم گاہ وغیرہ) کے درمیان پردہ اور آڑ ہے۔“ ترمذی اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی اسناد قوی نہیں، ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 358]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (606) [و ابن ماجه: 297]
٭ أبو إسحاق مدلس وعنعن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف


Mishkat al-Masabih Hadith 358 in Urdu