مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (اِنتِهَاكُ عِرْضِ أَخِيكَ أَشَدُّ مِنْ أَكْلِ لَحْمِ حِمَارٍ مَيِّتٍ)
اپنے بھائی کی آبروریزی مرے ہوئے گدھے کے گوشت سے زیادہ برا
حدیث نمبر: 3627
الْفَصْلُ الثَّانِي 3627 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ حَلَالًا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ قَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ الْحِمَارِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ بِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلمی (ماعز رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت کے ساتھ حرام کام (زنا) کا ارتکاب کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مرتبہ ان سے اعراض فرماتے رہے، پانچویں مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو پوچھا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حتیٰ کہ تمہاری یہ چیز (شرم گاہ) اس عورت کی اس چیز (شرم گاہ) میں غائب ہو گئی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس طرح سلائی سرمے دانی میں اور رسی کنویں میں داخل ہو (کر غائب ہو) جاتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے اس کے ساتھ حرام طور پر وہ کام کیا ہے جو آدمی حلال طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اس قول و اقرار سے کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا: اس آدمی کو دیکھو جس کی اللہ نے ستر پوشی کی تھی، اس کے نفس نے اسے نہ چھوڑا حتیٰ کہ وہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی، پھر کچھ دیر چلے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جس نے اپنی ٹانگ اٹھا رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اسے کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے وہ اسے کھانے سے بھی زیادہ سنگین ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اب جنت کی نہروں میں غوطہ زنی کر رہا ہے۔“ (إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الحدود/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4428)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 3627 in Urdu