🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وُجُوبُ الاِحْتِيَاطِ فِي قَضَاءِ الحَاكِمِ)
حاکم کا فیصلہ میں احتیاط کرنا ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3738
3738 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا ; فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: تُرْسِلُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ ; إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ  ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِ، فِي بَابِ الْأَقْضِيَةِ وَالشَّهَادَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بھیج رہے ہیں، جبکہ میں نو عمر ہوں اور مجھے قضا کے بارے میں علم بھی نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک عنقریب اللہ تیرے دل کی رہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو استقامت عطا فرمائے گا، جب دو آدمی تیرے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے فریق کے حق میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ یہ لائق تر ہے کہ تیرے لیے قضا واضح ہو جائے۔“ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اس کے بعد مجھے قضا میں شک نہیں ہوا۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔“ کو ہم «بَابُ الْأَقْضِيَةِ وَالشَّهَادَاتِ» میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی وابوداؤد وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (1331 و قال: حسن) و أبو داود (3582) و ابن ماجه (2310)
٭ شريک القاضي مدلس و عنعن و حنش بن المعتمر ضعيف ضعفه الجمھور و للحديث شواھد ضعيفة عند ابن ماجه (2310) وغيره .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف


Mishkat al-Masabih Hadith 3738 in Urdu