مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مِقْدَارُ المَالِ الجَائِزِ لِلْعَامِلِ)
عامل کے لئے کتنا مال جائز ہے
حدیث نمبر: 3751
3751 - وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". وَفِي رِوَايَةٍ:"مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ہمارا عامل (حکمران، گورنر) ہو (اور اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ بیت المال میں سے حق مہر ادا کر کے) شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہو تو وہ خادم خرید لے اور اگر اس کی رہائش نہ ہو تو وہ رہائش خرید لے۔“ (صحیح، رواہ ابوداؤد) ایک دوسری روایت میں ہے: ”جس نے اس کے علاوہ کچھ حاصل کیا تو وہ خیانت کرنے والا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2945)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 3751 in Urdu