مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ شَهَادَتُهُ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ)
کس کی گواہی جائز نہیں
حدیث نمبر: 3781
3781 - وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلُودٍ حَدًّا، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ، وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَيَزِيدُ ابْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الرَّاوِي مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے مرد کی گواہی جائز نہیں اور نہ خیانت کرنے والی عورت کی، جس شخص پر حد قائم کی گئی ہو اس کی گواہی بھی منظور نہیں اور نہ دشمنی رکھنے والے شخص کی اپنے بھائی کے خلاف، اور ولاء (آزادی) کے بارے میں متہم شخص کی گواہی جائز نہیں اور نہ قرابت کے بارے میں متہم شخص کی اور نہ ہی اہل بیت (یعنی خاندان) کے بارے میں ایسے شخص کی گواہی جائز ہے جس کا خرچہ اس کے خاندان کے ذمہ ہو۔“ ترمذی۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث غریب ہے اور یزید بن زیاد دمشقی راوی منکر الحدیث ہے۔ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإمارة والقضاء/حدیث: 3781]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الترمذي (2298)
٭ وقال الدارقطني (244/4): ’’يزيد ھذا ضعيف، لا يحتج به‘‘ وھو متروک و لبعض الحديث شواھد .»
٭ وقال الدارقطني (244/4): ’’يزيد ھذا ضعيف، لا يحتج به‘‘ وھو متروک و لبعض الحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 3781 in Urdu