مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (غَنِيمَةُ الْمَالِ لِلْمُسْتَأْجَرِ)
ملازم کے لئے مال غنیمت
حدیث نمبر: 3844
3844 - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: آذَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ، فَالْتَمَسْتُ أَجِيرًا يَكْفِينِي ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا سَمَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَةٌ، أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ لَهُ. فَقَالَ:"مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا دَنَانِيرَهُ الَّتِي تُسَمِّي". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ کا اعلان فرمایا تو میں اس وقت عمر ر شخص تھا، میرے پاس کوئی خادم بھی نہیں تھا، میں نے اپنی طرف سے کفایت کرنے کے لیے ایک اجیر تلاش کیا، چنانچہ مجھے ایک آدمی مل گیا، میں نے اس کے لیے تین دینار طے کیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اسے اس کا حصہ دینے کا ارادہ کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس غزوہ میں اس کے لیے ان تین مقررہ دینار کے علاوہ دنیا و آخرت میں کچھ اور نہیں پاتا۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3844]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2527)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3844 in Urdu