مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِدَانَةُ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْعُمَّالِ)
عورت اور مزدور کو قتل کرنے کی مذمت
حدیث نمبر: 3955
3955 - وَعَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسُ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ:"انْظُرُوا عَلَى مَا اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ؟"فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ:"مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ"وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ:"قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے لوگوں کو کسی چیز کے گرد جمع دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا: ”دیکھ وہ لوگ کس لیے جمع ہیں؟“ وہ آیا تو اس نے عرض کیا: ایک مقتولہ عورت کے گرد جمع ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو جنگجو نہ تھی۔“ ہراول دستے پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی بھیجا اور اسے فرمایا: ”خالد سے کہو: کسی عورت کو قتل کرو نہ کسی اجیر (اجرتی) کو۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابو داؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2669)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3955 in Urdu