مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ الصُّلْحِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُرَيْشٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کا بیان
حدیث نمبر: 4044
4044 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَنَا مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَكْتُبُ هَذَا؟ قَالَ: (نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط عائد کی کہ تمہاری طرف سے جو شخص ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے تمہیں واپس نہیں کریں گے، اور جو شخص ہماری طرف سے تمہارے پاس آئے گا تو تم اسے ہمیں واپس کرو گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم (یہ شرط) لکھ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جو شخص ہماری طرف سے ان کی طرف جائے گا تو اللہ نے اسے دور کر دیا، اور جو شخص ان کی طرف سے ہمارے پاس آئے گا تو اللہ اس کے لیے عنقریب کوئی خلاصی کی راہ پیدا فرما دے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجهاد/حدیث: 4044]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (93/ 1784)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 4044 in Urdu