مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (آدَابُ الْأَكْلِ مُجْتَمِعِينَ)
مل بیٹھ کر کھانے کے آداب
حدیث نمبر: 4254
4254 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ ، وَلَا يَرْفَعْ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ، وَلْيُعْذِرْ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ، فَيَقْبِضُ يَدَهُ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب دسترخوان لگا دیا جائے تو دسترخوان اٹھائے جانے تک کوئی شخص نہ اٹھے، اور جب تک کھانے میں شریک تمام افراد فارغ نہ ہو جائیں تب تک کوئی شخص کھانے سے اپنا ہاتھ نہ روکے خواہ وہ سیر ہو جائے اور اگر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو عذر پیش کر دینا چاہیے، ورنہ اس طرح اس کے ساتھ والے کو شرمندگی ہوگی اور وہ کھانے کی ضرورت کے باوجود اپنا ہاتھ روک لے گا۔“ (ضعیف، رواہ ابن ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4254]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه ابن ماجه (3273، 3295) و البيھقي في شعب الإيمان (5864)
٭ فيه عبد الأعلي بن أعين: ضعيف .»
٭ فيه عبد الأعلي بن أعين: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 4254 in Urdu