مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَعْرُ ٱلشَّيْبِ فِي ٱلْكِبَرِ نُورٌ)
بڑھاپے کے سفید بال نور کا سبب
حدیث نمبر: 4458
4458 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ ; فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ. مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بال ختم نہ کرو کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے، جس کا حالتِ اسلام میں بال سفید ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اس کے بدلے میں اس کی ایک غلطی ختم کر دیتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4202)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 4458 in Urdu