مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَمْ يَدْخُلْ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ ٱلْبَيْتَ بِسَبَبِ ٱلْكَلْبِ وَٱلصُّورَةِ)
کتے اور تصویر کی وجہ سے جبرئیل علیہ السلام گھر میں نہیں آئے
حدیث نمبر: 4490
4490 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، وَقَالَ:"إِنَّ جِبْرَائِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ، فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي". ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَنَا جِبْرِيلَ. فَقَالَ:"لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ". قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے اور فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے رات کے وقت مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے، آگاہ رہو کہ اللہ کی قسم! انہوں نے مجھ سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں خیال آیا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا چھوٹا سا بچہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا کہ اسے نکال دیا جائے، چنانچہ اسے نکال دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑک دیا، پھر جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کل مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: ٹھیک ہے، لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو، اگلے روز صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے مارنے کا حکم فرما دیا حتی کہ چھوٹے باغوں کے کتے بھی مار دیے جائیں البتہ بڑے باغوں کے کتے چھوڑ دینے (یعنی نہ مارنے) کا حکم فرمایا۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4490]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2105/82)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 4490 in Urdu