🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (خَطَرُ الْعَيْنِ الْبَرِيَّةِ)
نظر بد کی ہلاکت خیزی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4562
4562 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ  . قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ. قَالَ:"هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا". فَقَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ. قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامِرًا، فَتُغُلِّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ:"عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهُ) . فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ، فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ" وَرَوَاهُ مَالِكٌ. وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ:"إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ  . تَوَضَّأْ لَهُ"، فَتَوَضَّأَ لَهُ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جس قدر سفید و ملائم جلد آج دیکھی ہے ایسی کبھی نہیں دیکھی، راوی بیان کرتے ہیں: (اسی بات پر) سہل رضی اللہ عنہما بے ہوش ہو کر گر گئے، انہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے بارے میں کچھ خبر ہے؟ اللہ کی قسم! وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے متعلق کسی کے بارے میں گمان کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: ہم عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں گمان کرتے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عامر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور اس سے سخت لہجے میں بات کی اور فرمایا: تم اپنے بھائی کو قتل کرتے ہو، تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی، اس کے لیے غسل کرو۔ عامر رضی اللہ عنہما نے اس کے لیے ایک برتن میں اپنا چہرہ، اپنے ہاتھ، اپنی کہنیاں، اپنے گھٹنے، پاؤں کے اطراف اور ازار کے ساتھ کے اعضاء دھوئے، پھر وہ پانی اس پر ڈالا گیا تو وہ (اٹھ کر) لوگوں کے ساتھ چل پڑا اور اسے کوئی تکلیف نہیں تھی، اور امام مالک رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے، اور ان کی روایت میں ہے، فرمایا: «العَيْنُ حَقٌّ» بے شک نظر (کی تاثیر) ثابت ہے، اس کے لیے وضو کر۔ اس نے اس کے لیے وضو کیا، صحیح، رواہ فی شرح السنہ و مالک رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4562]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه البغوي في شرح السنة (164/12 ح 3245) و مالک (939/2ح 1811) [و ابن ماجه (3509) وصححه ابن حبان (الموارد: 1424) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 4562 in Urdu