مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْعُ زِيَارَةِ الْكُهَّانِ)
کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 4592
(2) بَابُ الْكِهَانَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4592 - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ. قَالَ:"فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ". قَالَ: قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ. قَالَ:"ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَنَّكُمْ". قَالَ، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يُخْطِئُونَ. قَالَ:"كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ ایسے امور و معاملات ہیں جو ہم دورِ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ہم پرندوں کے ذریعے فال لیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے وہ (فال لینا) تمہیں (کام کرنے سے) نہ روکے۔“ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لکیریں کھینچا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی بھی لکیریں کھینچا کرتے تھے، جس کا خط ان کے خط کے موافق ہو گیا تو وہ ٹھیک ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4592]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (121/ 537)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 4592 in Urdu