مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَعْضُ الْأَسْمَاءِ غَيْرُ الْمُسْتَحَبَّةِ)
کچھ ناپسندیدہ نام
حدیث نمبر: 4753
4753 - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ ، فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ لَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ، قَالَ:"لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحًا، وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے غلام (بچے یا غلام) کا نام «يَسَار» (آسانی)، «رَبَاح» (منافع)، «نَجِيح» (کامیاب) اور «أَفْلَح» (فوز و فلاح) مت رکھو، کیونکہ تم کہو گے: کیا وہ یہاں ہے؟ وہ نہیں ہو گا تو کہنے والا کہے گا: وہ نہیں ہے۔“ اور انہی کی روایت میں ہے، فرمایا: ”اپنے غلام کا «رَبَاح»، «يَسَار»، «أَفْلَح» اور «نَافِع» نام نہ رکھو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4753]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (12، 2137/11)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (12، 2137/11)
Mishkat al-Masabih Hadith 4753 in Urdu