مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَضْعُ الْأَصَابِعِ فِي الْأُذُنَيْنِ عِنْدَ صَوْتِ الْمِزْمَارِ)
بانسری کی آواز سے کانوں میں انگلیاں
حدیث نمبر: 4811
4811 - وَعَنْ نَافِعٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ، فَسَمِعَ مِزْمَارًا، فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَنَاءَ عَنِ الطَّرِيقِ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ، ثُمَّ قَالَ لِي بَعْدَ أَنْ بَعُدَ: يَا نَافِعُ! هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، فَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَسَمِعَ صَوْتَ يَرَاعٍ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. قَالَ نَافِعٌ: فَكُنْتُ إِذْ ذَاكَ صَغِيرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
نافع بیان کرتے ہیں، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک راستے میں تھا تو انہوں نے بانسری کی آواز سنی، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں اور وہ راستے میں دوسری جانب ہٹ گئے، پھر دور جا کر مجھے فرمایا: ”نافع! کیا تم کچھ سن رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں“، انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بانسری کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا جیسے میں نے کیا“، نافع نے کہا: ”میں تب چھوٹا تھا“۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4811]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (8/2 ح 4535) و أبو داود (4924)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 4811 in Urdu