مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَلِمَةُ رِضًا وَاحِدَةٌ كَافِيَةٌ لِلْمَغْفِرَةِ)
رضا کا ایک کلمہ بھی بخشش کے لئے کافی ہے
حدیث نمبر: 4813
4813 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لِيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا:"يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، لیکن اللہ اس کی وجہ سے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی ناراضی ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، لیکن وہ اس کے باعث جہنم میں گر جاتا ہے۔“ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور بخاری و مسلم کی روایت میں ہے: ”وہ اس (بات) کی وجہ سے جہنم میں اس قدر گہرا گر جاتا ہے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے۔“ رواہ البخاری و مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6474، 6477، و الرواية الثانية، 6478) و مسلم (2988/50)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (6474) و مسلم (2988/50)
Mishkat al-Masabih Hadith 4813 in Urdu