مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَا هِيَ الْغِيبَةُ؟)
غیبت کیا ہے؟
حدیث نمبر: 4829
4829 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ"فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ، وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَتَى عَاهَدْتِنِي فَحَّاشًا؟ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ:"اتِّقَاءَ فُحْشِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، وہ اپنی قوم کا کتنا برا شخص ہے!“ جب وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا، جب وہ آدمی چلا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے متعلق اس طرح اس طرح کہا، پھر (اس کے آنے پر) آپ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے مجھے کب فحش گو پایا؟ یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین وہ شخص ہو گا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4829]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6032. 6054) و مسلم (2591/73)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 4829 in Urdu