مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (خُلاَصَةُ حُكْمِ مَاءِ السِّبَاعِ رِوَايَةُ المُوَطَّإِ لِلإِمَامِ مَالِكٍ)
درندوں کے پینے کے بعد بچے ہوئے پانی کا خلاصہ، بروایت مؤطا امام مالک
حدیث نمبر: 487
487 - وَزَادَ رَزِينٌ، قَالَ: زَادَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَقُولُ:"لَهَا مَا أَخَذَتْ فِي بُطُونِهَا، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَنَا طَهُورٌ وَشَرَابٌ".
رزین نے کہا: بعض راویوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو ان (درندوں) کے پیٹ میں چلا گیا، وہ ان کا، اور جو بچ رہا وہ ہمارے لیے پاک ہے اور باعث طہارت اور پینے کے لائق ہے۔“ «لَا أَصْلَ لَهُ» ”اس کی کوئی اصل نہیں“، «رَوَاهُ رَزِينٌ» ”اسے رزین نے روایت کیا ہے“، «لَمْ أَجِدْهُ» ”میں نے اسے نہیں پایا“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لا أصل له، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لا أصل له
Mishkat al-Masabih Hadith 487 in Urdu