مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ يُشَاوَرُ هُوَ أَمِينٌ)
جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے
حدیث نمبر: 5062
5062 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التِّيِّهَانِ:"هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟ فَقَالَ: لَا. قَالَ:"فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا. فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسَيْنِ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ مِنْهُمَا. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ . خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي، وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم ہمارے پاس آنا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو غلام لائے گئے تو ابو الہیثم رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ ہی پسند فرما دیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ» ”جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے، اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2369 وقال: حسن صحيح غريب)
٭ عبد الملک بن عمير مدلس و عنعن و حديث الترمذي (2822) حسن بالشواھد .»
٭ عبد الملک بن عمير مدلس و عنعن و حديث الترمذي (2822) حسن بالشواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 5062 in Urdu