مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (المَشْيُ حَافِيًا عَلَى الأَرْضِ لَا يَنْقُضُ الوُضُوءَ)
راستے کی ناپاکی کے باوجود مسجد میں حاضری
حدیث نمبر: 512
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 512 - عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ فَقَالَ:"أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟"قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:"فَهَذِهِ هَذِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبُخَارِيُّ.
بنو عبدالأشہل کی ایک خاتون رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے، جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں؟ وہ بیان کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (384) [وابن ماجه: 533] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 512 in Urdu