مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (خَمْسَةُ أَسْئِلَةٍ يَجِبُ الإِجَابَةُ عَلَيْهَا يَوْمَ القِيَامَةِ)
قیامت کے دن ان پانچ سوالوں کا جواب ضرور دینا ہو گا
حدیث نمبر: 5197
5197 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ؟"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روز قیامت انسان کے قدم (اللہ کے دربار میں) برابر جمے رہیں گے حتیٰ کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے متعلق کہ اس نے اسے کن کاموں میں ختم کیا، اس کی جوانی کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں ضائع کیا، اس کے مال کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں سے حاصل کیا اور اسے کن مصارف میں خرچ کیا اور اپنے علم کے مطابق کتنا عمل کیا؟“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے، (سندہ ضعیف، رواہ الترمذی)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5197]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2416)
٭ حسين بن قيس الرحبي متروک و للحديث شواھد ضعيفة .»
٭ حسين بن قيس الرحبي متروک و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح لشواهده
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 5197 in Urdu