مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ أَبْوَابِ الخَيْرِ وَالشَّرِّ)
خیر اور شر کے دروازوں کا بیان
حدیث نمبر: 5208
5208 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، لِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ ، وَوَيْلٌ لَعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ، مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ خیر کے خزانے ہیں، ان خزانوں کی چابیاں ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جسے اللہ نے خیر کے لیے چابی (کھولنے والا) بنا دیا اور شر کو بند کرنے والا بنا دیا، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جسے اللہ نے شر کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا۔“ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5208]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (238)
٭ عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف جدًا، يروي الموضوعات عن أبيه .»
٭ عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف جدًا، يروي الموضوعات عن أبيه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
Mishkat al-Masabih Hadith 5208 in Urdu