🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بُشْرَى نَبَوِيَّةٌ لِلفُقَرَاءِ وَالمُهَاجِرِينَ)
فقراء مہاجرین کے لیے بشارتِ نبوی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5257
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5257 - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ! إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ. لَا نَفَقَةَ وَلَا دَابَّةَ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ  إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا". قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوعبدالرحمن حبلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، ایک آدمی نے ان سے سوال پوچھا: کیا ہم مہاجر فقرا میں سے نہیں؟ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رات بسر کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: کیا تیرے رہنے کے لیے گھر ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: تم تو مال داروں میں سے ہو، اس نے کہا: میرے پاس تو ایک خادم بھی ہے، انہوں نے فرمایا: تم تو بادشاہ ہو، ابوعبدالرحمن نے کہا کہ تین آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، میں اس وقت ان کے پاس تھا، انہوں نے کہا: اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، کوئی خرچہ ہے، نہ سواری اور نہ ہی ساز و سامان، انہوں نے انہیں فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم کچھ چاہو تو تم ہمارے پاس آنا، اللہ نے تمہارے لیے جو میسر فرمایا وہ ہم تمہیں عطا کریں گے، اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کریں گے؟ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہاجر فقرا روزِ قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ہم صبر کرتے ہیں اور ہم کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5257]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (37/ 2979)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 5257 in Urdu