مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (انْتِشَارُ أُمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا پھیلاؤ
حدیث نمبر: 5296
5296 - وَعَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ:"عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي. فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ. فَقَالَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: (اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ) . ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ:"سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، چنانچہ ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک آدمی تھا، ایک اور نبی تھے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے، اور ایک اور نبی تھے ان کے ساتھ چند آدمی تھے، جبکہ کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا، میں نے ایک بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا، میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہوگی لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ہیں، پھر مجھے کہا گیا، دیکھو، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا، مجھے کہا گیا: اس طرف (دائیں، بائیں) دیکھو، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق پر پھیلا ہوا تھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے، «هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» ”یہ وہ لوگ ہیں جو نہ بدشگونی لیتے تھے، نہ دم کرواتے تھے اور نہ ہی داغ لگواتے تھے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔““ اتنے میں عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اس کو ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔“ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5296]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5752) و مسلم (374/ 220)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 5296 in Urdu