مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَفْهُومُ تَرْكِ الدُّنْيَا)
ترک دنیا کا مفہوم
حدیث نمبر: 5301
5301 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الرَّاوِي مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی، حلال کو حرام کرنے اور مال ضائع کرنے کا نام نہیں، بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس چیز سے، جو اللہ کے ہاتھوں میں ہے، زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو، اور یہ کہ جب تو کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو تو اس کے ثواب میں اس قدر رغبت رکھنے والا ہو کہ (کاش) وہ (مصیبت) تجھے نہ پہنچتی۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور عمرو بن واقد راوی منکر الحدیث ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» ”اس کی سند بہت ضعیف ہے“، «رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه» ”اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (2340) و ابن ماجه (4100)
٭ عمرو بن واقد: متروک .»
٭ عمرو بن واقد: متروک .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
Mishkat al-Masabih Hadith 5301 in Urdu