مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ الإِنْفَاقِ عَلَى طُلَّابِ الدِّينِ)
دین کے طالب علموں پرخرچ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5308
5308 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ:"لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا جبکہ دوسرا کاروبار کیا کرتا تھا، کاروبار کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تمہیں اسی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح غریب ہے، اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5308]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2345)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 5308 in Urdu