🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَحْذِيرِ أَقْرِبَائِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5372
5372 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ صَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي:"يَا بَنِي فِهْرٍ! يَا بَنِي عَدِيٍّ!"لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا فَقَالَ:"أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟"قَالُوا: نَعَمْ؟ مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا، قَالَ:"فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٌ شَدِيدٌ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمَ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا؟! فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: نَادَى:"يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهُ!".
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیں۔“ نازل ہوئی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز دینے لگے: ”بنو فہر! بنو عدی!“ (جو کہ قریش کے قبیلے ہیں) حتیٰ کہ وہ اکٹھے ہو گئے، تو فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی، ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں آگاہ کرنے والا ہوں۔“ ابولہب نے کہا: باقی ایام میں تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا؟ تب سورہ ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و برباد ہو جائے۔“ نازل ہوئی۔ ایک دوسری روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آواز دی: ”بنو عبد مناف! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے اہل و عیال کو بچانے چلا تو اسے اندیشہ ہوا کہ وہ (دشمن) اس پر سبقت لے جائیں گے تو وہ (دشمن کی اطلاع دینے کے لیے) زور زور سے کہتا ہے: «يَا صَبَاحَاهُ» ”ہائے صبح کا حملہ!“۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5372]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4770) و مسلم (355/ 208 و 353 / 207)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه


Mishkat al-Masabih Hadith 5372 in Urdu