مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ثَلَاثُ سَنَوَاتٍ قَبْلَ الدَّجَّالِ سَتَكُونُ بِلَا بَرَكَةٍ)
دجال سے پہلے تین سال بےررکت ہوں گے
حدیث نمبر: 5491
5491 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ:"إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ: سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ! أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا، وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً". قَالَ: وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ، وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ". قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ، قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ:"مَهْيَمْ أَسْمَاءُ"قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ. قَالَ:"إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ، فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي، عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ"، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:"يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْهَا. وَرَوَاهُ مُحْيِى السُّنَّةِ فِي مَعَالِمِ التَّنْزِيلِ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس سے پہلے تین قسم کے قحط ہوں گے، ایک قحط یہ ہوگا کہ اس میں آسمان تہائی بارش روک لے گا، زمین اپنی تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے میں یہ ہوگا کہ آسمان اپنی دو تہائی بارش روک لے گا، زمین اپنی دو تہائی نباتات روک لے گی، اور تیسرے میں آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا، اور زمین اپنی تمام نباتات روک لے گی، چوپایوں میں سے کوئی کھر والا باقی بچے گا نہ کوئی کچلی والا، سب ہلاک ہو جائیں گے، اس کا سب سے شدید فتنہ یہ ہوگا کہ وہ اعرابی کے پاس آئے گا تو کہے گا: مجھے بتاؤ اگر میں تمہارے اونٹ کو زندہ کر دوں تو کیا تجھے یقین نہیں آئے گا کہ میں تمہارا رب ہوں؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، شیطان اس کے لیے اس کے اونٹ کی صورت اختیار کر لے گا، تو اس کے تھن بہترین ہو جائیں گے اور اس کی کوہان بہت بڑی ہو جائے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (دجال) دوسرے آدمی کے پاس آئے گا جس کا بھائی اور والد وفات پا چکے ہوں گے، تو وہ (اسے) کہے گا: مجھے بتاؤ اگر میں تمہارے لیے تمہارے والد اور تمہارے بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تجھے یقین نہیں ہوگا کہ میں تمہارا رب ہوں؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، شیطان اس کے لیے اس کے والد اور اس کے بھائی کی صورت اختیار کر لے گا۔“ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی ضرورت کی خاطر تشریف لے گئے، پھر واپس آ گئے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کردہ فرمان کی وجہ سے فکر و غم کی کیفیت میں تھے، بیان کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کی دہلیز پکڑ کر فرمایا: ”اسماء کیا حال ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکال کر رکھ دیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری زندگی میں نکل آیا تو میں اس کا مقابلہ کروں گا، ورنہ میرا رب ہر مومن پر میرا خلیفہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا آٹا گوندھتی ہیں اور روٹی پکا کر ابھی فارغ بھی نہیں ہوتیں کہ پھر بھوک لگ جاتی ہے، تو اس روز مومنوں کی کیا حالت ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تسبیح و تقدیس جو آسمان والوں کے لیے کافی ہوتی ہے وہی ان کے لیے کافی ہوگی۔“ [حسن، رواہ احمد] [مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5491]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (6/ 453. 454 ح 28120) [و الطبراني (24/ 158 ح 405 وسنده حسن. 161) ]
٭ انظر النھاية في الفتن و الملاحم (ح 263 بتحقيقي) لمزيد التحقيق .
٭ قلت: قتادة لم ينفرد به، بل تابعه ثابت و حجاج بن الأسود و عبد العزيز بن صھيب به . فالحديث حسن .»
٭ انظر النھاية في الفتن و الملاحم (ح 263 بتحقيقي) لمزيد التحقيق .
٭ قلت: قتادة لم ينفرد به، بل تابعه ثابت و حجاج بن الأسود و عبد العزيز بن صھيب به . فالحديث حسن .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 5491 in Urdu